Skip to content

علامہ محمد اقبال

زندگيشبي زار ناليد ابر بهار
که اين زندگي گريه ي پيهم است
درخشيد برق سبک سير و گفت
خطا کرده ئي خنده ي يکدم است
ندانم به گلشن که برد اين خبر
سخنها ميان گل و شبنم است
Last night clouds of spring shed tears
As if forever
And said
Life is crying forever
Swift lighting roared and declared
No! It is but a moment’s laughter
I don’t know who broke this news
And got the rose and the dew talking

My poem: Saleem A Khanani

میرے کچھ اشعارہم لوگ ہیں کہ بھول گئے ڈر عذاب کا

کیا ہوگا بعد موت وہ جلوے دکھائ دیں

خوف خدا رہا ہے نہ قدغن ضمیر کی

پھر کس طرح یہاں وہ کرشمے دکھائ دیں

دل میں جو بات آئ زباں سے وہی کہی

شاید تمہیں ہمارے وہ جذبے دکھائ دیں

الجھے رہیں گے سلسلے ناز و نیاز کے

دھوکہ نہ کھایئے جو سلجھتے دکھائ دیں

انساں سے راستگی کی توقع محال ہے

کیا تم کو اس زمیں پہ فرشتے دکھائ دیں

سلیم ابوبکر کھانانی

From Iraqi

آتش دل چون نمي گردد به آب ديده کم
مي دمم بادي بر آتش، تا بتر سوزد مرا
A fire that burns inside
And consumes my heart
Tears can extinguish it not
I throw myself on fire
To burn even more

If you split my heart

لو شق عن قلبي فري وسطهذكرك و التوحيد في شطره

If you split my heart it will be seen

Your mention in one half and the Unity in the other

صبا تو جاکے یہ کہیئو میرے سلام کے بعد

کہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعد

صلي الله عليه و سلم

My latest poem: Saleem A Khanani

کوئ خوابوں میں نہ آیا تو کدھر جائیں گے
ایسا لگتا ہے کہ جاگیں گے تو مر جائیں گے
سہمے سہمے ہوئے ارمان کہاں تک سمٹیں
خوف آتا ہے کہ اٹھے تو بکھر جائیں گے
اجنبی راستہ منزل کی خبر کیوں کر دے
خود کو مل جائیں تو ہم خیر سے گھر جائیں گے
عید اس شہر خراباں کے مقدر میں کہاں ہے
چاند کو ڈھونڈنے اب تیرے شہر جائیں گے
ناز اٹھتے نہیں اب ہم سے بہاروں کے سلیم
اذن مل جائے خزاں کا تو ادھر جائیں گے

حسن الحضارة مجلوب بتظريةٍ

وفي البداوةِ حسنٌ غير مجلوبِ
شہری حسن ہمیشہ بناؤ سنگھار کا مرہون منت ہوتا ہے
دیہاتی حسن کسی زیب و زینت کا محتاج نہیں
حسن بے پرواہ کو اپنی بے نقابی کے لیئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کے بن

دلا ہر کہ بنہاد خوانِ کرم

بشد نامدارِ جہانِ کرم
اے دل! جس نے بھی کرم (و احسان) کا دستر خوان (بچھائے) رکھا
وہ کرم کی دنیا میں نامدارِ ہوا
کرم کے کئ معنی ہیں
بخشنا
مروت دکھانا
بزرگی کا مظاہرہ کرنا
گناہ معاف کرنا
احسان اور مہربانی کرنا 
الكَريمُ : من صَفات الله تعالى وأَسمائه ، وهو الكثيرُ الخير الجوادُ المُعطِي الذي لا ينفَذُ عطاؤه الكَريمُ : الصَّفُوحُ