Skip to content

ڈاکٹر ڈھول باجے والا
ایک ناول
ڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانی
سترہویں قسط
ڈاکٹر عقیل کے لڑکھڑاتے قدم اب پاکستان سے باہر ماں باپ کی پناہ بخش آغوش سے جدا ہوکر اکیلے زندگی گزارنے کے لیئے مستحکم ہوتے جارہے تھے۔ دن بھر اکرام الدین کی دکان پر کام اور پھر جمعہ، سنیچر اور اتوار کو شادیوں، دعوتوں اور دیگر تقریبات میں ڈھول بجانا اور اپنی سریلی آواز میں نغمے سنانا۔
اکرام الدین کا رویہ بھی ملائم ہوتا جارہا تھا اور رفتہ رفتہ صغریٰ کے حسین چہرے سے نقاب سرکتے سرکتے بالکل ہی غائب ہوگیا۔ حسنِ بے پردہ حسنِ مستور سے بڑھ کر لگا۔ عقیل جب بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تو آنکھیں کچھ اور نہ دیکھ پاتیں۔
دکان پر کام کرنا بھی اب اسے اچھا لگتا تھا۔ بات صرف اتنی ہی نہیں تھی کہ تنخواہ سے کم از کم کمرے کا کرایہ ادا ہوجاتا تھا بلکہ ایک اور فائدہ بھی تھا۔ آتے جاتے گاہکوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی انگریزی بھی بہتر ہورہی تھی اور ان کے تجربات اور خیالات سے مفت استفادہ بھی میسر آرہا تھا۔
صحیح کہتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر ہے۔ ایک ہی ماحول میں پرورش پاتے ہوئے انسان کے خیالات ایک ہی ڈگر کے ہوجاتے ہیں۔ وسعتِ نظر اور اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا سلیقہ و ہنر پنپنے نہیں پاتے۔ جمعہ کو نماز کے بعد تین بجے تک تو سر کھجانے کی مہلت بھی نہیں ملتی تھی لیکن پھر پانچ بجے تک صرف ایک دو گاہک ہی دکان پر آتے تھے۔ ایک تو وکیل محمود جعفری تھے جو بلا ناغہ ٹھیک سوا تین بجے تشریف لاتے۔ پرانے گاہک تھے اور غالباً ٹورنٹو میں مقیم کراچی کے اولین مہاجر تھے۔ انتہائ مِلنسار اور محب وطن پاکستانی تھے۔ نیم ریٹائرڈ تھے۔ وطن سے برسوں دور رہتے ہوئے بھی وطن کی مٹی کی خوشبو اپنے دل میں بسائے پاکستانیوں کے چھوٹے موٹے قانونی کام کاج اکثر بلا معاوضہ بھی کردیتے۔
اکرام الدین کی ایمیگریشن کی کاروائ وکیل صاحب نے ہی کی تھی۔ دوستی کہیئے، مروت سمجھ لیجیئے یا احسان کا بدلہ اکرام الدین کو ان کا آنا بظاہر کبھی برا نہیں لگا۔ وکیل صاحب آتے، چائے کی ایک پیالی پیتے، تازہ اخبارات پر نظر دوڑاتے اور کبھی کبھار کوئ کتاب یہ کچھ اشیائے ضرورت خرید لیتے۔
باتیں کرتے تو حکمت کے موتی بکھیرتے جاتے۔ نہایت شائستہ اندازِ گفتگو کے مالک تھے اور فصیح و بلیغ لکھنوی اردو بولتے۔
شروع شروع میں عقیل خاموش رہا کرتے تھے۔ کہیں اکرام الدین کو برا نہ لگے۔ پھر وکیل صاحب کی شہ دینے پر بے تکلفی بڑھنے لگی لیکن کبھی آپ سے تم اور تم سے تو کی نوبت نہ آئ۔ عقیل ایک غریب لیکن شریف خاندان کے باغ میں کِھلے، پلے اور بڑھے تھے جہاں ہمیشہ تہذیب کی بہار نے بد اخلاقی کی خزاں کو قدم جمانے نہیں دیئے۔
ایک دن اکرام الدین کو اپنے ڈاکٹر کے پاس معائنے اور دکان کے لیئے کچھ ساز و سامان لینے کے لیئے جانا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد جب نمازیوں اور گاہکوں کی بھر مار ختم ہوئ تو اکرام الدین مخاطب ہوئے:
“ عقیل میاں! میں اب نکلتا ہوں۔ ڈاکٹر کے پاس بھی جانا ہے اور پھر دکان کے لیئے بھی سپلائز کی ضرورت ہے۔ چھٹیوں کے دن آنے والے ہیں ناں۔ ہمارے کاروبار کا اچھا خاصہ حصہ ان چھٹیوں کی بدولت ہوتا ہے۔ سمجھ لو کہ ایک long weekend پر اتنی کمائ ہوجاتی ہے جتنی عموماً ایک مہینے میں ہوتی ہے۔ مقامی گاہکوں کے علاوہ باہر سے بھی لوگ آجاتے ہیں۔ مجھے ذرا دیر ہوجائے گی۔ تم دکان سنبھال لوگے ناں؟ اور ہاں وکیل صاحب آئیں تو انہیں چائے ضرور پلانا اور کل جو نئے پاکستانی اخبار اور رسائل آۓ ہیں وہ ضرور دکھانا۔ کچھ تو خرید کر جائیں!”
اکرام صاحب کے جانے کے بعد عقیل نے سکون کی سانس لی۔ تین بجے تھے اور اس کے پاس پورے پندرہ منٹ تھے جسم میں کسی گاہک کی آمد غیر متوقع تھی۔ ایک لمبی سانس لیکر عقیل نے سینڈوچ اور کوک سے لنچ کیا۔ کبریٰ نے گھر سے نکلتے وقت کھیر کی ایک پیالی بھی ساتھ دے دیتی تھی۔
“ عقیل بیٹا! یہ صغریٰ نے بنائ ہے۔ یاد سے کھا لینا۔”

ڈاکٹ ڈھول باجے والاایک ناولڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانیقسط 16کینیڈا آئے ہوئے کئ دن ہوگئے تھے لیکن عقیل ابھی تک اپنے آپ کو اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ اکرام الدین کی دکان پر کام کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اس مقصد کے لیئے یہاں نہیں آیا تھا اوع رضوان کی داستانِ غم نے اس کی بیتابی میں اضافہ کردیا تھا۔رضوان اس سے ملنے آجاتا کرتا تھا اور کبھی کبھار اپنے گھر بھی لے جاتا۔رضوان کے بیٹے یاسر سے اسے نجانے کیوں ایک انسیت سی ہوگئ تھی۔ اس کے گھر جاتے ہوئے وہ دکان سے کچھ چاکلیٹ اور بسکٹ خرید کر لے جاتا۔ یاسر بھی اس کا گرویدہ ہورہا تھا۔ فریدہ کے ہاتھ کے کھانوں میں اسے امی کے ہاتھ کی مہک محسوس ہوتی تھی۔ رضوان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات سے حالات کی تلخی زائل تو نہیں ہوتی تھی لیکن اس میں کافی کمی آجاتی تھی۔ایک دن دکان پر ایک پاکستانی سے ملاقات ہوئ۔ اجمل علی کا تعلق بھی کراچی سے تھا۔ برسوں سے کینیڈا میں مقیم تھے۔ ان کے تعلیم یافتہ گھرانے نے ہندوستان سے پاکستان اور پھر پاکستان سے کینیڈا اور امریکہ ہجرت کی۔ ایک بار مہاجر تو گویا ساری عمر مہاجر۔ یہ لوگ کس ملک کو اپنا وطن کہیں؟ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن ہندوستانی نہیں کہلا سکتے۔ پاکستان ہجرت کی لیکن بسیار کوشش کے باوجود سندھ حکومت میں باوجود تعلیمی اہلیت کے ملازمت نہ مل سکی۔ سوائے کوچ کرنے کے اور کوئ راستہ نظر نہ آیا تو اجمل علی کے خاندان نے پھر سے ہجرت کی سوچی۔ کوئ بھائ کینیڈا تو کوئ امریکہ پہنچا۔ہماری روایات میں یہ بات اچھی ہے کہ بڑے بھائ باپ بن کر اپنے چھوٹے بھائ بہنوں کی پرورش اور کفایت کا فرض ہنسی خوشی نبھاتے ہیں۔ اجمل کے بڑے بھائیوں نے آہستہ آہستہ پورے خاندان کو پاکستان سے بلا کر کینیڈا اور امریکہ بلا لیا۔اجمل بنیادی طور پر انجینیئر تھا لیکن اس کے گلے میں قدرت نے نغمگی اور سوز بھرنے میں بڑی فراغ دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ٹورنٹو کیا پورے کینیڈا میں اتنا اچھا گانے والے کم ہی تھے۔اجمل نے اپنا ایک بینڈ قائم کیا تھا۔ ہر ہفتے ہی کسی نہ کسی تقریب میں انہیں اپنے فن کے مظاہرے کے مواقع مل جاتے۔ فیض اور فراز کی غزلیں اور نظمیں گاتے تو یوں لگتا جیسے شاعر نے اجمل کی گلوکاری کو مد نظر رکھتے ہوئے الفاظ کو موتیوں میں پرویا ہو۔باتوں ہی باتوں میں عقیل نے اجمل سے کہ دیا کہ اس کے خاندان والے بھی شادی بیاہ کی تقریروں میں ڈھول بجاتے رہے ہیں“ بھئ تمہیں بھی کچھ گانا بجانا آتا ہے؟”“جی تھوڑا بہت گا لیتا ہوں اور ڈھول بھی بجا لیتا ہوں۔” عقیل نے کچھ انکساری اور کچھ ہچکچاہٹ کے لہجے میں نیچی نگاہوں کے ساتھ جواب دیا۔“ارے بھئ اتنا شرما کیوں رہے ہو؟ فنکار کو اپنے فن پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرنا چاہیئے۔ مجھے دیکھو۔ میں انجینیئر ہوں لیکن بڑے شوق اور بڑے فخر سے گانے گاتا ہوں۔ ““ارے اکرام بھائ۔ ذرا ڈاکٹر صاحب کا امتحان تو لیں۔ دیکھیں کیسا ڈھول بجاتے ہیں۔ ان کا گانا تو نہیں سنا لیکن آواز میں سوز اور ساز ہم جیسے استادوں سے چھپ نہیں سکتے۔ ہمارے بینڈ میں کوئ اپنا ڈھول بجانے والا نہیں ہے۔ وِکرم سنگھ کو مونٹریال سے بلانا پڑتا ہے۔اجمل علی کو اپنی صلاحیتوں اور تجربے پر مکمل بھروسہ تھا جیسے ایک جوہری ہیرے اور چمکتے پتھر کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتا ہے۔“ جی اجمل بھائ جیسا آپ چاہیں۔”اکرام الدین کے چہرے پر ناگواری کے اثرات آۓ، منڈلائے اور چلے گئے۔ لہجے کی بے بسی کو اجمل نے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن وہ عقیل کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ سکی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا احسان مند ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے اپنا زر خرید غلام سمجھنے لگتے ہیں۔ اکرام الدین نے عقیل کو اپنے گھر ٹہرایا، ملازمت دی اور دل ہی دل میں گھر داماد بنانے کا بھی سوچ رہے تھے۔ اتنا حق تو بنتا تھا کہ عقیل ان سے پوچھے بغیر کوئ قدم نہ اٹھاتا۔لیکن بیچ میں اجمل آرہا تھا۔ اجمل اور اس کا خاندان برسوں سے اکرام صاحب کے گاہک تھے اور ساتھ ساتھ اجمل کا نیٹ ورک بھی کافی پھیلا ہوا تھا۔ عقیل کی گردن دبوچتے تو کاروبار میں گھاٹے کے خدشے نے انہیں محتاط رویئہ رکھنے پر مجبور کردیا۔کاروباری تجربے نے اکرام الدین کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔اجمل کو نا سننے کی عادت نہیں تھی۔ اسی شام وہ اور اس کے کچھ رفقاء کار اکرام الدین کی رہائش گاہ پر آدھمکے۔ عقیل کچھ سراسیمہ سا اور کچھ خوف زدہ تھا۔ اکرام صاحب کی دور رس نگاہیں ایک کاروباری موقع دیکھ رہی تھیں۔ اگر عقیل کو اجمل کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی وجہ سے مزید گاہک مل جائیں گے۔ مہمانوں کی خوب آؤ بھگت کی اور مہمان خانے میں انہیں عقیل کی معیت میں روایتی رکھ رکھاؤ سے بیٹھنے کو کہا۔“ہاں عقیل! چلو کچھ سناؤ اور کچھ ڈھول بھی بجا کر دکھاؤ۔ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے صرف کتابیں ہی پڑھی ہیں یا کچھ موروثی فن کو بھی سیکھا ہے؟” اجمل نے ہنستے ہوئے کہا۔ اجمل کا انداز گفتگو بھی ان کی صورت کی طرح دل آویز تھا۔ تحکم اور شیرینی کے امتزاج میں اپنی بات منوانے کا ملکہ سب کو نصیب نہیں ہوتا۔عقیل نے استاد امانت علی خان کی مشہور غزل گنگنانا شروع کیہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے“ارے بھائ اس طرح گاؤگے تو جاگتی قوم گہری نیند سو جائے گی۔ بھئ اپنی آواز بلند کرو اور اس میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کرو۔” اجمل نے ذرا سختی سے کہا۔“ اور ہاں ماسٹر صاحب ذرا طبلہ بجائیں تاکہ ڈاکٹر صاحب بھی موڈ میں آجائیں۔”ببلی کا سنگت اور پردے کے پیچھے بیٹھی صغریٰ کی مشکل سے روکتی ہوئ ہنسی نے عقیل کو تقویت پہنچائ۔ پھر جو اس نے گانا شروع کیا تو سننے والے داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔گائیکی میں جان ایسے ہی تو نہیں آتی۔ کوئ حسین خیال کسی یاد کے ابھرتے نقوش کسی دید کا تصور ساتھ نہ ہوا تو بات نہیں بنتی۔اجمل نے بے ساختہ تالیاں بجائیں۔“ بھئ مان گئے۔ آواز سریلی ہے اور سر تال بھی ٹھیک۔ بس تھوڑی سی پختگی اور مزید مشق کی ضرورت ہے۔ سیکھ جاؤگے ہمارے ساتھ رہ کر۔”اجمل علی اس طرح کی گفتگو میں مہارت رکھتے تھے۔ پرانے کھلاڑی نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائ تو کرتے ہیں لیکن لمبی اڑان کو روکنا بھی جانتے ہیں۔عقیل کے کانوں نے کچھ سنا یا نہیں اس کو تو علم نہیں لیکن تشنہ نگاہیں چلمن کی دوسری طرف مرکوز تھیں۔“چلو اب اپنے آبائ فن کی کوئ جھلک دکھاؤ۔”ڈھول پیش کیا گیا۔ عقیل بچپن سے اپنے والد کو ڈھول بجاتے دیکھتا آیا تھا۔ ہر فن سیکھنے سے آتا ہے اور پختگی برسوں کی ریاضت کے بعد کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن عقیل کو یہ صلاحیت گویا موروثی طور پر منتقل ہوئ تھی۔ ہلکے ہلکے بجاتے ہوئے عقیل کے ہاتھوں کی حرکت جوبن تک پہنچی۔ خاموش رات ہلکی روشنی اور چلمن سے جھلکتا نور۔ کمرے میں ڈھول کے علاوہ مکمل خاموشی تھی۔ سامعین کے جسم ہلکے ہلکے تھرکنے لگے اور ایسا محسوس ہوا جیسے سارا جہاں رقص میں ہو۔اجمل کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔ اس نے پہلی بار اس طرح کسی کو ڈھول بجاتے دیکھا اور سنا تھا۔ کینیڈا میں روایتی ڈھول بجانے والے کم تھے جب کہ طلب زیادہ تھی۔ بجانے والوں میں مہارت تو زیادہ نہ تھی لیکن بڑھتی ہوئ مانگ کے پیش نظر انہیں اچھا خاصہ معاوضہ دینا پڑتا تھا۔“بھئ عقیل بس تم یہ سمجھو کہ تمہاری نوکری پکی۔ ہر ہفتے ہمیں دو پروگرام ملتے ہیں۔ تمہیں ہم پچیس ڈالر فی پروگرام دیں گے۔ بس تیار رہنا کل شام کو تمہیں لے جائیں گے اور واپس بھی چھوڑ دیں گے۔ کھانا بھی ملتا ہے اور میٹھا بھی۔”عقیل نے اکرام الدین کی طرف منت کرتی آنکھوں سے دیکھا۔ ہلکا سا گردن جھکاتے ہوئے اکرام الدین نے ایک اور احسان کا بوجھ عقیل پر ڈال دیا۔ اگر عقیل اور صغریٰ کی شادی ہوگئ تو پھر اجمل سے معاوضہ بڑھانے کی بات کی جائے گی۔دوسری طرف اجمل علی کو ایک سونے کا انڈہ دینے والی مرغی مل گئ تھی۔ ہر ہفتے سو ڈالر دینے باوجود بڑی منت سماجت سے کوئ فنکار حامی بھرتا تھا۔ یہاں بیٹھے بٹھائے ایک بہتر گلوکار اور ڈھول بجانے والا پچاس ڈالر فی ہفتہ میں ان کی جھولی میں آن پڑا تھا۔ جب تک کسی ہنر مند کو اپنے ہنر کی اہمیت اور اپنی صلاحیتوں کا احساس نہ ہو اس کا استحصال ناگزیر ہے۔وجود سندھ حکومت میں باوجود تعلیمی اہلیت کے ملازمت نہ مل سکی۔ سوائے کوچ کرنے کے اور کوئ راستہ نظر نہ آیا تو اجمل علی کے خاندان نے پھر سے ہجرت کی سوچی۔ کوئ بھائ کینیڈا تو کوئ امریکہ پہنچا۔ہماری روایات میں یہ بات اچھی ہے کہ بڑے بھائ باپ بن کر اپنے چھوٹے بھائ بہنوں کی پرورش اور کفایت کا فرض ہنسی خوشی نبھاتے ہیں۔ اسلم کے بڑے بھائیوں نے آہستہ آہستہ پورے خاندان کو پاکستان سے بلا کر کینیڈا اور امریکہ بلا لیا۔اجمل بنیادی طور پر انجینیئر تھا لیکن اس کے گلے میں قدرت نے نغمگی اور سوز بھرنے میں بڑی فراغ دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ٹورنٹو کیا پورے کینیڈا میں اتنا اچھا گانے والے کم ہی تھے۔اجمل نے اپنا ایک بینڈ قائم کیا تھا۔ ہر ہفتے ہی کسی نہ کسی تقریب میں انہیں اپنے فن کے مظاہرے کے مواقع مل جاتے۔ فیض اور فراز کی غزلیں اور نظمیں گاتے تو یوں لگتا جیسے شاعر نے اجمل کی گلوکاری کو مد نظر رکھتے ہوئے الفاظ کو موتیوں میں پرویا ہو۔باتوں ہی باتوں میں عقیل نے اجمل سے کہ دیا کہ اس کے خاندان والے بھی شادی بیاہ کی تقریروں میں ڈھول بجاتے رہے ہیں“ بھئ تمہیں بھی کچھ گانا بجانا آتا ہے؟”“جی تھوڑا بہت گا لیتا ہوں اور ڈھول بھی بجا لیتا ہوں۔” عقیل نے کچھ انکساری اور کچھ ہچکچاہٹ کے لہجے میں نیچی نگاہوں کے ساتھ جواب دیا۔“ارے بھئ اتنا شرما کیوں رہے ہو؟ فنکار کو اپنے فن پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرنا چاہیئے۔ مجھے دیکھو۔ میں انجینیئر ہوں لیکن بڑے شوق اور بڑے فخر سے گانے گاتا ہوں۔ ““ارے اکرام بھائ۔ ذرا ڈاکٹر صاحب کا امتحان تو لیں۔ دیکھیں کیسا ڈھول بجاتے ہیں۔ ان کا گانا تو نہیں سنا لیکن آواز میں سوز اور ساز ہم جیسے استادوں سے چھپ نہیں سکتے۔ ہمارے بینڈ میں کوئ اپنا ڈھول بجانے والا نہیں ہے۔ وِکرم سنگھ کو مونٹریال سے بلانا پڑتا ہے۔اجمل علی کو اپنی صلاحیتوں اور تجربے پر مکمل بھروسہ تھا جیسے ایک جوہری ہیرے اور چمکتے پتھر کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتا ہے۔“ جی اجمل بھائ جیسا آپ چاہیں۔”اکرام الدین کے چہرے پر ناگواری کے اثرات آۓ، منڈلائے اور چلے گئے۔ لہجے کی بے بسی کو اجمل نے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن وہ عقیل کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ سکی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا احسان مند ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے اپنا زر خرید غلام سمجھنے لگتے ہیں۔ اکرام الدین نے عقیل کو اپنے گھر ٹہرایا، ملازمت دی اور دل ہی دل میں گھر داماد بنانے کا بھی سوچ رہے تھے۔ اتنا حق تو بنتا تھا کہ عقیل ان سے پوچھے بغیر کوئ قدم نہ اٹھاتا۔لیکن بیچ میں اجمل آرہا تھا۔ اجمل اور اس کا خاندان برسوں سے اکرام صاحب کے گاہک تھے اور ساتھ ساتھ اجمل کا نیٹ ورک بھی کافی پھیلا ہوا تھا۔ عقیل کی گردن دبوچتے تو کاروبار میں گھاٹے کے خدشے نے انہیں محتاط رویئہ رکھنے پر مجبور کردیا۔کاروباری تجربے نے اکرام الدین کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔اجمل کو نا سننے کی عادت نہیں تھی۔ اسی شام وہ اور اس کے کچھ رفقاء کار اکرام الدین کی رہائش گاہ پر آدھمکے۔ عقیل کچھ سراسیمہ سا اور کچھ خوف زدہ تھا۔ اکرام صاحب کی دور رس نگاہیں ایک کاروباری موقع دیکھ رہی تھیں۔ اگر عقیل کو اجمل کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی وجہ سے مزید گاہک مل جائیں گے۔ مہمانوں کی خوب آؤ بھگت کی اور مہمان خانے میں انہیں عقیل کی معیت میں روایتی رکھ رکھاؤ سے بیٹھنے کو کہا۔“ہاں عقیل! چلو کچھ سناؤ اور کچھ ڈھول بھی بجا کر دکھاؤ۔ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے صرف کتابیں ہی پڑھی ہیں یا کچھ موروثی فن کو بھی سیکھا ہے؟” اجمل نے ہنستے ہوئے کہا۔ اجمل کا انداز گفتگو بھی ان کی صورت کی طرح دل آویز تھا۔ تحکم اور شیرینی کے امتزاج میں اپنی بات منوانے کا ملکہ سب کو نصیب نہیں ہوتا۔عقیل نے استاد امانت علی خان کی مشہور غزل گنگنانا شروع کیہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے“ارے بھائ اس طرح گاؤگے تو جاگتی قوم گہری نیند سو جائے گی۔ بھئ اپنی آواز بلند کرو اور اس میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کرو۔” اجمل نے ذرا سختی سے کہا۔“ اور ہاں ماسٹر صاحب ذرا طبلہ بجائیں تاکہ ڈاکٹر صاحب بھی موڈ میں آجائیں۔”ببلی کا سنگت اور پردے کے پیچھے بیٹھی صغریٰ کی مشکل سے روکتی ہوئ ہنسی نے عقیل کو تقویت پہنچائ۔ پھر جو اس نے گانا شروع کیا تو سننے والے داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔گائیکی میں جان ایسے ہی تو نہیں آتی۔ کوئ حسین خیال کسی یاد کے ابھرتے نقوش کسی دید کا تصور ساتھ نہ ہوا تو بات نہیں بنتی۔اجمل نے بے ساختہ تالیاں بجائیں۔“ بھئ مان گئے۔ آواز سریلی ہے اور سر تال بھی ٹھیک۔ بس تھوڑی سی پختگی اور مزید مشق کی ضرورت ہے۔ سیکھ جاؤگے ہمارے ساتھ رہ کر۔”اجمل علی اس طرح کی گفتگو میں مہارت رکھتے تھے۔ پرانے کھلاڑی نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائ تو کرتے ہیں لیکن لمبی اڑان کو روکنا بھی جانتے ہیں۔عقیل کے کانوں نے کچھ سنا یا نہیں اس کو تو علم نہیں لیکن تشنہ نگاہیں چلمن کی دوسری طرف مرکوز تھیں۔“چلو اب اپنے آبائ فن کی کوئ جھلک دکھاؤ۔”ڈھول پیش کیا گیا۔ عقیل بچپن سے اپنے والد کو ڈھول بجاتے دیکھتا آیا تھا۔ ہر فن سیکھنے سے آتا ہے اور پختگی برسوں کی ریاضت کے بعد کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن عقیل کو یہ صلاحیت گویا موروثی طور پر منتقل ہوئ تھی۔ ہلکے ہلکے بجاتے ہوئے عقیل کے ہاتھوں کی حرکت جوبن تک پہنچی۔ خاموش رات ہلکی روشنی اور چلمن سے جھلکتا نور۔ کمرے میں ڈھول کے علاوہ مکمل خاموشی تھی۔ سامعین کے جسم ہلکے ہلکے تھرکنے لگے اور ایسا محسوس ہوا جیسے سارا جہاں رقص میں ہو۔اجمل کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔ اس نے پہلی بار اس طرح کسی کو ڈھول بجاتے دیکھا اور سنا تھا۔ کینیڈا میں روایتی ڈھول بجانے والے کم تھے جب کہ طلب زیادہ تھی۔ بجانے والوں میں مہارت تو زیادہ نہ تھی لیکن بڑھتی ہوئ مانگ کے پیش نظر انہیں اچھا خاصہ معاوضہ دینا پڑتا تھا۔“بھئ عقیل بس تم یہ سمجھو کہ تمہاری نوکری پکی۔ ہر ہفتے ہمیں دو پروگرام ملتے ہیں۔ تمہیں ہم پچیس ڈالر فی پروگرام دیں گے۔ بس تیار رہنا کل شام کو تمہیں لے جائیں گے اور واپس بھی چھوڑ دیں گے۔ کھانا بھی ملتا ہے اور میٹھا بھی۔”عقیل نے اکرام الدین کی طرف منت کرتی آنکھوں سے دیکھا۔ ہلکا سا گردن جھکاتے ہوئے اکرام الدین نے ایک اور احسان کا بوجھ عقیل پر ڈال دیا۔ اگر عقیل اور صغریٰ کی شادی ہوگئ تو پھر اجمل سے معاوضہ بڑھانے کی بات کی جائے گی۔دوسری طرف اجمل علی کو ایک سونے کا انڈہ دینے والی مرغی مل گئ تھی۔ ہر ہفتے سو ڈالر دینے باوجود بڑی منت سماجت سے کوئ فنکار حامی بھرتا تھا۔ یہاں بیٹھے بٹھائے ایک بہتر گلوکار اور ڈھول بجانے والا پچاس ڈالر فی ہفتہ میں ان کی جھولی میں آن پڑا تھا۔ جب تک کسی ہنر مند کو اپنے ہنر کی اہمیت اور اپنی صلاحیتوں کا احساس نہ ہو اس کا استحصال ناگزیر ہے۔

ڈاکٹ ڈھول باجے والاایک ناولڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانیپندرہویں قسطرضوان کینیڈا آنے کے بعد واپس پاکستان نہیں گیا یا یہ کہنا چاہیئے کہ واپس نہیں جا سکا۔ ویزا ختم ہوجانے کے بعد وہ غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا۔ اس کے پاس کبھی اتنی اضافی رقم بھی جمع نہ ہوسکی کہ وہ اپنے ماں باپ کو کچھ بھیج سکتا۔ شروع شروع میں ہر ہفتے فون کرکے خیریت معلوم کرلیتا تھا پھر آہستہ آہستہ وقفے بڑھتے گئے۔ لگتا تھا کہ ماں باپ بھی رو دھو کر چپ بیٹھ گئے کہ بیٹا ہاتھ سے نکل گیا۔ دوست احباب یہی کہتے رہے کہ کینیڈا میں عیاشی کررہا ہوگا۔ نوٹوں کی بارش میں نہاتا ہوگا۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا پھرتا ہوگا جبکہ ماں باپ کراچی کی گرد آلو بسوں میں کھانستے ہوئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ بعض نے تو یہ بھی مشہور کردیا کہ کسی گوری نرس سے اس کی شادی بھی ہوگئ ہے۔“کیوں بہن بہو امید سے ہے یا نہیں؟ دادی بنوگی بھی یا نہیں؟ بھئ اس سے تو ہمارا بیٹا ہی اچھا ہے۔ مزدوری کرکے چار پیسے ہی سہی کچھ کما کرتو لاتا ہے۔ اور پھر اللہ کا شکر ہے پوتا پوتی بھی تو ہیں۔ ““ہاں بہن ٹھیک کہ رہی ہو، خود بھوکے رہے لیکن بیٹے کو کھلایا پلایا۔ پاس پوس کر بڑا کیا۔ ڈاکٹر بنایا۔ اور ہمیں کیا صلہ ملا؟ صورت دیکھنے تک کو ترس گئے ہیں ہم تو۔”پاکستان میں رہتے ہوئے یہ اندازہ کرنا نہایت مشکل ہے کہ ولایت، امریکہ اور کینیڈا جاکر نہ تو سرخ قالین بچھا کر ہر آنے والے کا استقبال کیا جاتا ہے اور نہ ہی جاتے ہی ہزاروں ڈالر کی ملازمت مل جاتی ہے۔رضوان کو اپنا مستقبل محفوظ کرنے کی خاطر فریدہ سے شادی کرنا پڑی لیکن سسر سے ایک معاہدے کے تحت۔ رہنے کو گھر مل گیا۔ سسر کی ملازمت سے مالی تحفظ بھی حاصل ہوا اور امیگریشن کی کاروائی بھی شروع ہوگئ۔ رضوان کا تعلیمی ریکارڈ کچھ اچھا نہیں تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ جو پڑھا تھا وہ بھی بھولنے لگا۔ امتحان میں ناکامی نے اس کے مزاج اور زبان میں تلخی بھر کر رکھدی تھی۔ اس کی بیوی فریدہ نے امریکہ کے شہر Buffalo کے دارالعلوم سے درس نظامی کا نصاب مکمل کیا تھا۔ قرآن کی حافظہ بھی تھی۔ ٹورنٹو اور بفیلو میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں کینیڈا میں دینی تعلیم کی سہولت میسر نہیں تھی۔ کافی ذہین تھی اور فائنل امتحان میں پہلی پوزیشن لینے کی بنا پر اسے دارالعلوم میں استاذہ بننے کی پیشکش بھی ملی تھی۔ لیکن والد نے رضوان سے نکاح کردیا۔فرمانبردار لڑکی نے بلا چوں و چراں والدین کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کردیا۔ رضوان پڑھا لکھا با شعور شخص تھا۔ حالات نے اس کے مزاج اور گفتار میں شیرینی کی جگہ تلخی کوٹ کوٹ کر بھردی تھی۔ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں موروثی خصائص کا ایک اہم کردار ہوتا ہے لیکن شاید اس سے بڑھ کر حالات کا اثر ہوتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خوش شکل خوش کردار اور خوش اخلاق فرد بھی حالات کی ستم ظریفی کا اس حد تک شکار ہوجاتا ہے کہ بعض اوقات اس کے ماں باپ بھی اسے پہچان نہیں پاتے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے آپ کو بھی اجنبی محسوس کرنے لگتا ہے۔فریدہ سے شادی کے بعد اس کی ذمہ داری میں صرف اضافہ ہی ہوا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ فریدہ کی مذہبی تعلیم کام آگئ اور اس نے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کے ساتھ ساتھ حفظ کی کلاسیں بھی شروع کردیں۔ شوہر کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ رضوان کو غیرت اور شرمندگی کا احساس ہوا تو فریدہ کے کردار کی پختگی نے شوہر کا سر بلند کردیا“رضوان ہمارے مذہب نے عورتوں کو مرد کا شقیق تعبیر کیا ہے یعنی وہ اس کے ساتھ complementary role ادا کرتی ہے۔ مرد اور عورت ایک نفس سے تخلیق کیئے گئے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی صرف تسکین ہی نہیں کرتے بلکہ ایمان کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور ذمہ داریاں بھی بانٹتے ہیں۔ ہمارے مشرقی culture میں عورت صرف گھر کی چار دیواری میں بیٹھی شوہر کے آنے کا انتظار کرتی ہے لیکن مذہب اسے قیدی نہیں قرار دیتا۔ شریعت کے دائرے میں رہ کر میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں گی۔ اگر کسی نے اعتراض کیا تو مجھے آپ سے توقع ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں گے۔”رضوان نے ایسا ہی کیا۔اس نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ ایک دن فریدہ نے پوچھ ہی لیا۔“ نماز پڑھ کر کیا کروں گا؟ کوئ دعا قبول ہوتی نظر نہیں آتی اور پھر مجھے تو پہلے ہی جہنمی قرار دیا جا چکا ہے۔”“ یہ کس نے کہا آپ سے؟ ““میں گنہگار ہوں تو اللہ میری کیوں سنے گا؟ جہنم کے علاوہ کیا ٹھکانہ ہوگا اور پھر یہ دنیا بھی جہنم سے کم نہیں۔ ہر لمحہ اذیت اور ناکامی کی آگ مجھے جلائے جاتی ہے۔”“ایسا نہ کہیں۔ نماز اس لیئے نہیں پڑھتے کہ ہمارے رکے ہوئے کام مکمل ہوجائیں یا یکایک ہمارے حالات بدل جائیں۔ نماز اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے اور یہ اللہ سے تعلق کا طریقہ ہے۔ روز محشر سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور یہ آپ سے کس نے کہ دیا کہ معاذ اللہ آپ جہنم میں جائیں گے؟ یہ صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کہا ہے کہ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور میری رحمت میرے غضب پر حاوی ہے۔”“ فریدہ جو نمازیں میں نے نہیں ادا کیں اور جو گناہ مجھ سے سرزد ہوئے ہیں کیا ان کی بھی معافی ہے؟”“کیوں نہیں! اللہ تعالی نے سورہ زمر میں ارشاد فرمایا ہے“ قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم) : آپ فرما دیجیئے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ،بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔”رضوان آپ سچے دل سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول فرمائیں گے۔”رضوان نے پہلے کبھی یہ باتیں نہیں سنی تھیں۔ اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ گناہ کرنے پر بڑی سزا ملے گی۔“فریدہ یہ توبہ کیسے کرتے ہیں؟”“ سب سے پہلے آپ اعتراف کریں کہ آپ سے خطا ہوئ ہے۔ پھر صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگیں۔ اور پھر یہ عہد کریں کہ آئندہ نماز نہیں چھوڑیں گے۔”رضوان اسی وقت سجدے میں گر پڑا جیسے کسی غیر مرئ طاقت نے اسے زمین بوس کردیا ہو۔ آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ زبان خاموش تھی لیکن دل اللہ سے معافی مانگ رہا تھا۔ جسم کانپتا رہا اور آسمان سے بجلی کڑکی۔ اس کے ارد گرد روشنی سی پھیل گئ۔ اس کی آنکھوں اور آسمان سے ایک ساتھ موسلادھار بارش کا ا یک سلسلہ جاری رہا۔وہ دن اور آج کا دن رضوان نے کوئ نماز نہیں چھوڑی۔

A quatrain: A day of joy and a day so sad

ديروز چنان وصال جان افروزي
امروز چنين فراق عالم‌سوزي
افسوس كه بر دفتر عمرم، ايام
آن را روزي نويسد، اين را روزي!
(سلطان طغرل)
It was only yesterday
With her by my side
My spirit flew high and happy
And today
My soul burns while she is away
Alas! Destiny has written both
A day of joy and a day so sad

ڈاکٹر ڈھول باجے والا
ایک قسط وار ناول
ڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانی

چودھویں قسط
عقیل پہلے تو چونک سا گیا لیکن پھر آواز کچھ جانی پہچانی سی محسوس ہوئ۔ مڑ کے دیکھا تو ایک ہنستی مسکراتی صورت نے اس کا خیر مقدم کیا۔
“ مجھے پہچانا ڈاکٹر صاحب؟”
یہ تو وہی ٹیکسی ڈرائیور تھا جس نے دیارِ غیر میں اسے بغیر کرایہ لیئے ریلوے سٹیشن سے اکرام الدین کے گھر تک سلامتی کے ساتھ پہنچایا تھا۔
عقیل بڑی گرم جوشی سے اس کے گلے لگ گیا۔ نہ جانے کیوں اسے ایک انسیت کا خوشگوار احساس ہوا۔
“ جی جی بالکل پہچان لیا۔”
“میرا نام رضوان ہے۔ میرا گھر یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے اور میں کبھی کبھار یہاں نماز پڑھنے آجاتا ہوں۔ آپ کیسے ہیں ڈاکٹر صاحب؟”
پیش تر اس کے عقیل جواب دیتا اکرام الدین پہنچ گئے۔
“ارے بھئ رضوان کیسے ہو؟ تم اور عقیل ایک دوسرے کو جانتے ہو کیا؟”
“بس اکرام صاحب یہ دوسری ملاقات ہے۔ ریلوے سٹیشن پر ڈاکٹر صاحب کو دیکھا تھا۔ گھبرائے گھبرائے سے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے اپنا وقت یاد آگیا تھا۔ آپ کے گھر تک میں نے ہی انہیں اتارا تھا۔”
“اچھا اچھا۔ پردیس میں کوئ اپنا ہم وطن نظر آجائے تو دل کو ذرا اطمینان سا ہوجاتا ہے۔ آؤ عقیل میاں گھر چلیں۔ رات ہوگئ ہے۔ کل جمعہ ہے جلدی دکان جانا ہوگا۔”
“ ارے اکرام صاحب میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں اور تھوڑی دیر ڈاکٹر صاحب کو شہر کی رونقیں دکھا کر واپس چھوڑ دوں گا۔ بس تھوڑی دیر کے لیئے۔”
اکرام الدین کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرنے لگے۔ عقیل نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا لیکن دل ہی دل میں دعا مانگنا شروع کردی کہ اکرام صاحب ہاں کہ دیں۔ نجانے کیوں اس کا دل ٹیکسی ڈرائیور کی طرف کھنچا جارہا تھا۔
“ فکر نہ کریں اکرام صاحب کرایہ نہیں لوں گا۔”
“اچھا بھئ اب جلدی چلو مجھے نیند آرہی ہے۔ اور سنو عقیل زیادہ دیر مت لگانا۔ اہل خانہ بھی جلدی سونے کے عادی ہیں۔ وہ تو ہم سے بھی پہلے تہجد کے لیئے اٹھ جاتے ہیں۔”
عقیل کی جان میں جان آئ۔ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اکرام الدین کو گھر چھوڑ کر رضوان نے عقیل کو آگے بٹھایا۔ سردی کی رات میں ٹیکسی دھواں چھوڑتی ہوئ آگے بڑھ گئ۔ آسمان پر تاروں بھری دبیز چادر چھائ ہوئ تھی۔ چاند چاندنی بکھیرے ہوئے گویا محوِ خواب تھا۔ ویران سڑک پر گاڑی چلی جارہی تھی۔ رضوان نے عقیل کے جاگتے خواب کا سلسلہ منقطع کرتے ہوئے کہا۔
“تو ڈاکٹر صاحب کیسی گز رہی ہے؟”
“ رضوان بھائ آپ سینیئر ہیں پلیز مجھے عقیل کہ کر بات کریں۔”
“ اچھا اچھا۔” رضوان نے ہنستے ہوئے کہا۔
“میڈیکل کالج میں ایک سال سینیئر بھی اپنی seniority دکھانے میں مست رہتے تھے لیکن ڈاکٹر بننے کے بعد کیا سینیئر اور کیا جونیئر؟ ملک سے باہر آکر سب برابر ہوجاتے ہیں۔ سب کا ایک ہی ہدف ہوتا ہے۔ ریزیڈنسی کرنا اور ڈالر کمانا۔ اور سب کا ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے کہ یہ کام کیسے ہوگا؟”
عقیل نے اسے اپنی کہانی بلا کم و کاست سنادی۔ رضوان پر اسے گویا اندھا اعتماد سا ہونے لگا تھا۔ اکرام صاحب کے یہاں کام کرنے کی تفصیلات بھی بتا ڈالیں۔
“ مجھے چھ ماہ کا ویزا ملا ہے۔ یہاں آنے سے پہلے مجھے کوئ اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کن مسائل کا سامنہ ہوگا۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ ماموں کے دوست کافی امیر ہوں گے اور میں یہاں سکون سے بیٹھ کر FMGEMS کی تیاری کرسکوں گا۔ میرے پاس تو زیادہ پیسے بھی نہیں ہیں اور مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ میرا ویزا کیسے بڑھے گا۔ میں کیسے پڑھائ کروں گا۔ امتحان کہاں ہوتا ہے، امریکہ کیسے جاؤں گا؟”
عقیل کی داستان غم بڑی خاموشی اور توجہ سے رضوان نے سنی۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کا رد عمل نہیں تھا۔ وہ یہ سب کچھ پہلے بھی کئ نو وارد ڈاکٹروں سے سن چکا تھا۔
رضوان نے ٹیکسی ایک shopping area کے پارکنگ لاٹ میں روک دی۔
ایکgrocery store کے علاوہ سب دکانیں بند تھیں۔ مکمل سناٹے میں کہیں دور سے کتوں کے بھونکنے کی آواز نہ آتی تو اس آباد بستی پر شہر خموشاں کا گمان ہوتا۔
“عقیل میں بھی تمہاری طرح یہاں آیا تھا لیکن ہاؤس جاب کے بعد۔ میرے چچا برسوں سے یہاں آباد ہیں۔ اچھا خاصہ کاروبار ہے ان کا لیکن آتے ہی مجھے بتادیا گیا کہ اپنا خرچہ مجھے خود ہی اٹھانا پڑے گا۔ پڑھائ سے زیادہ کمائ اہم ہوگی۔ اعلی تعلیم سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ تھا۔ کئ کام کیئے۔ کسی کے گیراج میں رہا تو کبھی مسجدوں میں راتیں گزارنا پڑیں۔ تین برس کے بعد کچھ پیسے جمع ہوئے تو امتحان دیا۔ سائنس اتنی آگے بڑھ گئ تھی کہ امتحان پاس نہ کرسکا۔ بغیر ویزا کے کوئ ڈھنگ کا کام کیسے ملتا۔ ایک گیس سٹیشن پر روز کے سولہ گھنٹے کام سے دو وقت کی روٹی میسر آجاتی۔ گیس سٹیشن والے نے اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردی لیکن اس شرط پر کہ میں پانچ سال تک اس کے پاس ہی کام کروں گا۔ یہ جو ٹیکسی ہے یہ بھی اسی کی ہے۔ صبح پانچ بجے سے بارہ بجے تک گیس سٹیشن پر کام کرتا ہوں اور پھر ایک بجے سے رات آٹھ بجے تک ٹیکسی چلاتا ہوں۔ نہ دنیا کا نہ دین کا۔
چند سال پہلے گیس سٹیشن پر کچھ لوگ آئے تھے تبلیغ کرنے۔ مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ گشت پر چلو اور تین راتیں مسجد میں گزارو تمہاری دنیا بدل جائے گی۔
میں نے کہا کہ مجھے وقت پر نماز پڑھنا بھی نصیب نہیں ہوتی۔ آپ کے ساتھ گیا تو بیوی بچے کو فاقہ کرنا پڑجائے گا۔ کہنے لگے
“ تم نے دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت بیچ ڈالی ہے۔ اپنے آپ کو بدلو ورنہ جہنم کی آگ میں جلو گے۔”
“ آپ کون ہوتے ہیں جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے؟” غصے میں آکر میں نے کہنے والے کا گریبان پکڑ لیا۔
“لوگ بیچ بچاؤ نہ کرتے تو میں اسے مار ہی ڈالتا۔”
عقیل حیرت سے یہ سب کچھ سنتا رہا۔ کہاں وہ اپنے مسائل میں الجھا ہوا تھا اور کہاں اسے الٹا رضوان کی بپتا سننا پڑگئ
ہم اپنے مسائل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے کہ بس ایک ہم ہی ہیں جو مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہر شخص کی ایک کہانی ہوتی ہے۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئ مونس کوئ غم خوار ہو جس سے دل کا حال بیان کیا جائے
کوئ ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
عقیل اور رضوان دونوں ہی کچھ دیر خاموش آسمان کے ستارے گننتے رہے۔ بہت کچھ کہنے کو تھا لیکن رات ڈھل رہی تھی اور سردی اپنے عروج پر تھی۔
عقیل کو گھر چھوڑ کر رضوان بھی اپنے گھر لوٹ گیا

ڈاکٹر ڈھول باجے والا ۔ بارہویں قسط

ڈاکٹر ڈھول باجے والا
ڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانی

بارہویں قسط
سردی میں دس منٹ چل کر گھر پہنچنا گویا ننگے پاؤں برف پر چلنے کے مترادف تھا۔
عقیل کے ٹھٹھرنے کی ادا اکرام الدین کے لبوں پر مسکراہٹ لے آئ۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے
“عقیل میاں ابھی تو برف نہیں پڑی۔ خون میں گرمی پیدا کرو۔ یہاں رہنا ہے تو صرف اعصاب ہی نہیں جسم کو بھی حوادث زمانہ کے مقابلے کے لیئے مضبوط کرنا پڑتا ہے۔ خیر آج پہلا دن ہے۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ جلد ہی عادی ہوجاؤگے۔”
دس منٹوں کی اذیت جھیل کر عقیل اکرام الدین کے گھر پہنچے۔ تیز ہوا سے خون کی حدت تقریباً بجھ چکی تھی۔ ہاتھ سردی سے شل ہو چلے تھے۔ کانوں کا تو حال ہی نہ پوچھیں
عقیل سردی کے دفاع کی تیاری کے بغیر ہی کینیڈا پہنچ گئے تھے اور اسی طرح ان کے پاس کوئ واضح لائحۂ عمل بھی نہیں تھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ جو کچھ بھی کیا وہ ایک ردِؔ عمل تھا جس میں سوچ اور حکمت عملی کا کوئ دخل نہیں تھا۔
مکان میں داخل ہوتے ہوئے اکرام الدین کا سلسلۂ کلام جاری رہا۔ عقیل کی حالت یا تو انہیں نظر نہیں آرہی تھی یا وطن سے اتنا عرصہ دور رہنے کے بعد اس کی مٹی میں بسی احساس کی خوشبو ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔
“چلو ناشتہ کرتے ہیں۔ اور ہاں یہاں اپنا خرچہ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ تم یہاں رہ سکتے ہو مگر ہفتہ وار پچاس ڈالر کرایہ ہوگا۔ نہانے اور کپڑے کا گرم پانی سکؔے ڈال کر ملے گا۔ کھانا خود ہی پکانا ہوگا۔ سودا سلف قریبی دکان سے مل جائے گا۔ کوئ کام شام بھی آتا ہے تمہیں یا صرف کتابیں ہی رٹی ہیں؟”
“ جی میں تو یہاں اعلی تعلیم کے لیئے آیا ہوں۔”
“سب یہی کہتے ہیں میاں لیکن رہنے سہنے اور کھانے پینے کے لیئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے اور پیسہ نہ کتابیں پڑھنے سے ملتا ہے اور نہ ہی درخت پر اگتا ہے کہ جب دل چاہا اتار لیا۔”
چلو پھر تفصیل سے بات کریں گے۔” یہ کہتے ہوئے اکرام الدین کانپتے ہوئے عقیل کو بوکھلا تا ہوا چھوڑ کر اندر چل دیئے۔
کبریٰ اور صغرٰی نماز سے فارغ ہوکر ناشتہ تیار کر رہیں تھی۔ دسترخوان بچھا کر روٹی انڈے اور چائے صبح کا معمول تھا جو کبھی کبھار ہی بدلا جاتا۔
“یہ عقیل کہاں رہ گیا؟ جاؤ صغرٰی ذرا دیکھو تو۔”
صغرٰی تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد عقیل کو دیئے گئے کمرے کی طرف گئ جسے کمرہ کہنا کچھ نامناسب سے لگتا ہے۔ دروازہ نیم دراز تھا۔ ہلکی سی دستک دی لیکن جواب ندارد۔ تین بار دستک دینے پر بھی خاموشی رہی۔ صغرٰی نے ہلکے سے دروازہ سرکایا۔
عقیل فرش پر ایک چادر میں لپٹے سو رہے تھے۔ سانس لینے کی ہلکی آواز اور سینے کے زیر و بم سے صغرٰی کو اطمینان ہوا۔ دبے پاؤں پلٹ کر والدین کے پاس پہنچی۔
“کیا ہوا خیریت تو ہے؟” کبریٰ نے بیٹی کے چہرے کو جیسے پڑھ لیا ہو۔
“ وہ سو رہے ہیں۔”
“سو رہے ہیں؟ یہ وقت ہے سونے کا؟ کیا ماں باپ کا گھر سمجھ رکھا ہے؟ میں تو سوچ رہا تھا کہ اپنے ساتھ دکان لیجاؤں گا۔ ارشد اب بہت چھٹیاں کرنے لگا ہے اور کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرتا۔ اس کی جگہ عقیل کو رکھ لیں گے۔ تنخواہ بھی کم دینی پڑے گی اور رہنے کا کرایہ بھی اسی میں سے وصول کرلیں گے۔”
“ابھی رات کو ہی تو پہنچا ہے۔تھکا مارا اور اوپر سے jet leg. آپ بھی حد کرتے ہیں۔ ذرا دم تو لینے دیں۔”
“اب لارڈ پیار سے اس کا دماغ مت خراب کردینا۔ ہم نے بھی دن رات کی محنت کی ہے تب جاکر چار پیسے بنائے ہیں۔ یہ دیسی نو وارد سمجھتے ہیں کہ کینیڈا اور امریکہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہیں۔ سرخ قالین بچھا کر ان کا استقبال کیا جائے گا۔ آئے ہیں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے! دو دن میں دماغ ٹھکانے آجائے گا۔”
سمجھدار بیویاں ایسے موقعوں پر خاموشی کو ہی اپنا ہتھیار اور دفاع سمجھ کر چپ چاپ سنتی رہتی ہیں۔
اکرام الدین جب گھر سے دکان کے لیئے نکلے تو ماں بیٹی نے سکون کی سانس لی۔

ناول
ڈاکٹر ڈھول باجے والا
سلیم ابوبکر کھانانی

گیارہویں قسط
مسجد سے نکل کر عقیل اکرام الدین کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی سورج بھی نیند کی وادیوں میں گم تھا۔ زندگی میں پہلی بار اتنی جلدی نماز فجر ادا کی تھی اور وہ بھی مسجد میں۔ پاکستان میں فجر کی جماعت سورج طلوع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے ادا کی جاتی ہے۔ جس مسجد میں اکرام الدین جاتے تھے وہاں اہل حدیث کا مسلک رائج تھا جو کہ چند فقہی مسائل میں حنفی مسلک سے جدا تھا۔
عقیل دو رکعت سنت پڑھ کر بیٹھ گئے اور اپنے اردگرد کا جائزہ لینے لگے۔ چھوٹی سی مسجد تھی لیکن صاف ستھری۔ آنے والے نمازیوں کے لباس، چہرے، رنگت سب ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ کچھ تو گورے انگریز لگ رہے تھے اور کچھ افریقہ کے سیاہ فام لیکن سب ایک دوسرے کے برابر شانہ بشانہ بیٹھے ہوئے تھے۔ عقیل کے زمانہ نا شناس چہرے پر حیرت کی دبیز چادر اکرام الدین کی تجربہ کار نگاہوں سے کیسی چھپ سکتی تھی۔
“عقیل میاں یہاں پر دنیا کے کئ ممالک کے لوگ ملیں گے۔ اللہ کے گھر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ تمہارے داہنی طرف دو کینیڈین ہیں ایک ڈاکٹر اور ایک فیکٹری ورکر۔ دونوں نے چند سالوں پہلے ہی اسلام قبول کیا ہے اور روز ساتھ ساتھ فجر اور عشاء کی نماز کے لیئے آتے ہیں۔ ہمارے پیچھے کی صف میں ایک مصری ہیں جن کا مکان بنانے کا بہت بڑا کاروبار ہے۔ اور ہمارے آگے کی صف میں کینیڈا میں صومالیہ کے سفیر ہیں۔”
عقیل کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اسے اقبال کے اس شعر کی آج پہلی بار حقیقی تعبیر جاگتی آنکھوں نظر آئ
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئ بندہ رہا اور نہ کوئ بندہ نواز
عقیل نے دیکھا کہ رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت کچھ لوگ ہاتھ کاندھوں تک اٹھاتے اور کچھ نہیں اٹھاتے جیسا کہ کراچی میں دستور تھا۔
جماعت کا وقت ہوا تو ایک نوجوان جینز پہنے آگے بڑھا۔ لمبا قد اور گورا رنگ مگر یہ کیا؟ نہ تو سر پر ٹوپی اور نہ ہی دمکتے گالوں پر سیاہ لمبی دھاڑی!
نماز کے لیئے اقامہ کہا گیا جو تھوڑا سا مختلف لگا۔ امام صاحب نے نہایت خوش الحانی کے ساتھ سورہ الفاتحہ پڑھنا شروع کی اور عقیل کی خوابیدہ آنکھیں بند ہونا شروع ہی ہوئ تھیں کہ آمین کی بلند آواز نے انہیں چونکا دیا۔ جلدی جلدی امام کے ساتھ رکوع میں گئے۔ ایسا محسوس ہوا کہ شاید انہیں جگانے کے لیئے ہی ایسا کیا گیا تھا۔ دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ نمازیوں کی مشترکہ آمین سے مسجد کی پر سکون فضا گونج اٹھی جو اجنبی ہونے کے باوجود عقیل کے کانوں کو بھلی لگی۔
واپسی پر عقیل کے پر تعجب استفسار پر اکرام الدین نے بتایا کہ دین کے بنیادی معاملات پر کسی مسلک کا کوئ اختلاف نہیں لیکن فروعی معاملات میں شرعی احکام کی تبدیلی احادیث اور اجتہاد کی بناء پر ہے۔ رفع یدین اور آمین بالجہر بھی انہی معرکہ آراء مسائل میں سے ہیں جن پر چودہ صدیوں سے علماء اسلام کا اختلاف ہے۔
نماز میں کوئ سر پر ٹوپی پہنتا ہے تو کوئ نہیں۔ رہی داڑھی تو اس کے فرض، واجب اور مسنون ہونے پر اکثر ہماری بیٹھکوں میں بحث و تکرار ہوتی رہتی ہے۔”
عقیل میاں سر ہلاتے رہے اور جی جی کہتے رہے۔ اکرام الدین کے الفاظ ان کے سر کے اوپر سے گزر گئے کیونکہ کراچی میں رہتے ہوئے انہوں نے صرف تقلید سیکھی تھی۔ مذہبی معاملات میں مسجد کے امام سے سوال کرنا بے ادبی جو سمجھی جاتی تھی۔ میٹرک کے بعد اسلامیات کا مضمون ان کے زمانے میں نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ اور انٹر اور میڈیکل کالج کے سات آٹھ سال میں کسے فرصت کہ مذہب کو پڑھے؟

Pakistan 1985 A trip

سیر پاکستان
ڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکثر لوگ جس محلے میں جنم لیتے اسی کے اطراف میں زندگی بسر کرتے اور وہیں سے اپنے آخری سفر پر روانہ ہوجاتے۔ ڈاکٹر بنتے وقت میرا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ سترہ سال کی عمر میں والدین کے ساتھ لاہور کا ایک سفر کیا تھا جو ایک سانحے پر ختم ہوا۔ کراچی واپسی پر پہلے انٹر کی پڑھائ اور پھر سات سال کا طویل عرصہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں کچھ اس طرح گزرا کہ زندگی دس میلوں کے دائرے تک ہی محدود رہی۔
اولاد اکلوتی ہو تو والدین ضرورت سے زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں۔ مجھے تو ہوسٹل میں رہنے کی بھی اجازت نہ ملی۔
سول ہسپتال میں ہاؤس جاب کے دوران میرے تین ہم جماعتوں نے پروگرام بنایا کہ پاکستان کی سیر کی جائے۔ مجھ پر کافی دباؤ ڈالا اور چار و ناچار والدین نے بھی اجازت عطا فرمائ۔
ماہانہ نو سو روپے تنخواہ سے صرف جیب خرچ پورا ہوتا تھا۔ اس لیئے فیصلہ کیا گیا کہ تیسری کلاس سے ریلوے میں سفر کریں گے۔ کراچی اسٹیشن سے جب ٹرین میں سوار ہوئے تو شوق اور خوف دونوں ہی جذبے ہمراہ تھے۔
فردوسی بیگم کی گائ ہوئ سرور بارہ بنکوی کی ایک غزل کا شعر یاد آگیا
ہم تیرا شہر چھوڑ جائیں گے
پھر کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے
خیر کسی کے عشق میں ناکام ہوکر ہمیشہ کے لیئے شہر کو خدا حافظ کرنے کا تو ذہن میں دور دور تک خیال نہیں تھا لیکن جوانی میں مزاج عاشقانہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی!
منصوبہ یہ تھا کہ پہلے لاہور جائیں گے پھر پنڈی اسلام آباد اور وہاں سے مری ایوبیہ نتھیا گلی کاغان اور آخر میں ہشاور ہوتے ہوئے کراچی واپسی ہوگی۔
کراچی سے ٹرین روانہ ہوئ اور ہم چاروں دوست باتوں میں مشغول ہوئے۔ میرے ہم سفر پچھلے سات سالوں کے ہم جماعت عبدالجبار، فیاض احمد شیخ اور خالد احمد تھے۔ ہم نے ایک سال ہاؤس جاب بھی ساتھ ہی کیا تھا۔ فیاض سب سے زیادہ جوشیلے تھے اور ہنس مکھ بھی۔ میں ان دنوں ذرا کم گو ہوا کرتا تھا۔
ان کی باتیں بھی دل آویز ہیں صورت کی طرح
میری سوچیں بھی پریشاں میرے بالوں جیسی

باقی دو دوست سنجیدہ طبیعت کے حامل تھے لیکن خشک مزاج نہیں۔

سفر شروع ہوا۔ ٹرین کھچا کھچ بھری ہوئ تھی۔ ہر ذات اور ہر بھانت کا شخص ہمارا ہم سفر تھا۔ پر سکون دور تھا۔ کسی کو کسی سے کوئ خطرہ نہ تھا۔ نہ مذہبی شدت پسندی نے اپنا جال بچھایا تھا اور نہ ہی سیاسی دشمنی نے نفرتوں کی مضبوط دیوار کھڑی کی ہوئ تھی۔
کچھ دیر باتوں میں مشغول رہے تو کچھ وقت تاش کھیلنے میں گزرا۔
ریل کی کھڑکی سے صرف تازہ ہوا ہی نہیں آرہی تھی بلکہ پاکستان کے چپے چپے کی اپنی انفرادی مہک بھی دل و دماغ پر چھائے جارہی تھی۔
جوش ملیح آبادی کی ایک طویل نظم “ریل کا سفر” یاد آگئ۔
پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتا ہوں
اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں
گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھا
اجمیر کی طرف سے جے پور جارہا تھا
خورشید چھپ رہا تھا رنگیں پہاڑیوں میں
طاؤس پر سمیٹے بیٹھے تھے جھاڑیوں

اک موجِ کیف پرور دل سے گزر رہی تھیہر چیز دلبری سے یوں رقص کر رہی تھی
تھیں رخصتی کرن سے سب وادیاں سنہریناگاہ چلتے چلتے جنگل میں ریل ٹھہری
کانٹوں پہ خوبصورت اک بانسری پڑی ہےدیکھا کہ ایک لڑکی میدان میں کھڑی ہے
ایسا خوبصورت واقعہ ہمارے نصیب میں کہاں تھا لیکن جاگتی آنکھیں بھی خواب دیکھ لیتی ہیں۔
ہم دن اور رات کے اس سفر میں گاڑی سے چلتے مناظر میں اپنے اپنے خوابوں کے رنگ بھرتے رہے اور جب بھی گاڑی کسی سٹیشن پر رکتی تو پلیٹ فارم پر چہل قدمی کے لیئے اتر جاتے۔ گاڑیوں اور مسافروں کی آمد و رفت، آنے والوں سے گلے ملتے ہوئے احباب، جانے والوں کو آنسوؤں کی پناہ میں رخصت کرتے ہوئے رشتے دار، سامان اٹھانے کے لیئے ایک دوسرے سے سبقت لیجانے والے قلی اور گرم چائے اور دیگر اشیائے خورد و نوش بیچنے والے لوگ – یہ سارے مناظر ایسے تھے جیسے کوئ فلم آنکھوں کے سامنے چل رہی ہو۔
رات تھوڑی دیر کے لیئے ہی آنکھ جھپکی تھی۔ چند روز کا یہ سفر آرام کی بجائے سیر پاکستان کے لیئے تھا اور ویسے بھی جوان جسم جلدی نہیں تھکتے۔
اگلے روز صبح گاڑی لاہور پہنچ گئ۔ لاہور والے جنت جاکر بھی یہی کہیں گے کہ یہ بھی اچھی جگہ ہے لیکن لاہور لاہور ہے۔ ہمارے ایک ہم جماعت زاہد اصغر لاہور کے باشندے تھے تعلیم کے لیئے کراچی میں کئ برس مقیم رہے۔ ہمیں لینے پہنچ گئے اور اپنے گھر لے گئے۔ ہم لوٹوں کے بغیر سفر پر نکل پڑے تھے اور ٹرین کے غسل خانے نے ہمیں کچھ زیادہ متاثر نہیں کیا تھا۔ سب سے پہلے ہم نے غسل خانے کا رخ کیا اور تازہ دم ہوکر روایتی لاہوری ناشتہ تناول فرمایا۔ زاہد کی مہمان نوازی اب تک ناقابل فراموش رہی ہے۔ تمام دن لاہور کی سیر کی اور خان بابا کے ہوٹل پر دوپہر کا کھانا بھی ڈٹ کر کھایا۔ اور آخر کیوں نہ کھاتے بل جو زاہد نے بھرا تھا؟
لاہور سے شام کو ویگن میں پنڈی روانگی تھی۔ پرسکون سفر رہا۔ سڑکیں ہموار اور موسم خوشگوار۔ با ذوق ڈرائیور نے نازیہ حسن کے نغمے لگا رکھے تھے۔
کومل کومل پلکیں بوجھل سنتے ہوئے نیند کی حسین وادیوں میں ایسا کھوئے کہ پنڈی پہنچ کر ہی آنکھ کھلی۔
ڈاکٹر طارق وحید نے پنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا لیکن ان کی اہلیہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں فائنل ایئر میں پڑھ رہی تھیں جس کی بنا پر وہ ہمارے ساتھ سول ہسپتال میں زیر تربیت تھے۔ شریف اور منکسر المزاج شخص تھے۔ ان کے ایک دوست میڈیکل کالج کے ہوسٹل انچارج تھے اس لیئے ہمیں رہائش اور کھانے پینے کی کوئ فکر نہ تھی۔
عبدالجبار کے والد کے ایک مقامی دوست نے ہمارے لیئے گاڑی اور ڈرائیور کا بند و بست کردیا تھا۔پنڈی گھومے اور اسلام آباد کی بھی سیر کی۔ مرگلہ پہاڑی سے گویا پورا شہر دکھائ دے رہا تھا۔ پاکستان کا پہلا باضابطہ طور پر بنا ہوا یہ دارالحکومت میرے تخیئل سے بھی خوبصورت تر تھا۔
رات ہوئ تو وہاں سے مری کے لیئے نکل پڑے۔ اس بار سفر کچھ پر خطر ٹہرا۔
Winding winding goes the way and I follow follow
بعض موڑ تو ایسے آئے کہ اچھل کر دل منہ میں آگیا۔ ڈرائیور کی مہارت کی داد دینی پڑی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش، خاموشی کا سماں، آسمان پر چمکتا چاند اور ستاروں کی بچھی ہوئ دبیز چادر۔ میرے لیئے یہ پہلا تجربہ تھا۔ پاکستان اتنا خوبصورت ہوگا؟ یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ کراچی میرا شہر ہے، میری جائے پیدائش ہے لیکن بڑھتی آبادی ، تنگ راستے اور گھٹتے دل اس شہر کے حسن کو پامال کیئے جارہے تھے۔
آسمان تکتے تکتے پھر زمین پر نظر دوڑائ ۔ پتلی سڑک، دو طرفہ گاڑیوں کی آمد و رفت، ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف سر کو چکرا دینے والی گہرائ! دل کی دھڑکن کی تیزی کو قابو میں لانے کے لیئے فیاض نے کیسٹ چلا دی۔
آشا بھونسلے کے اس گیت کو مڑوڑ تروڑ کر انہوں نے انجانے راستوں اور ماحول کے خوف کا کافی حد تک ازالہ کردیا۔
جب نکل جائے گا جی تو کون کہے گا پی
کہ پی پی پی پیارے دل لگا کے پی
کچھ ہنستے ہوئے کچھ سہمے ہوئے بوجھل آنکھوں کے ساتھ مری پہنچے اور زندگی میں پہلی بار برف باری اور یخ بستہ سردی کا سامنا ہوا۔ سردی توقع سے زیادہ اور تیاری کم تھی۔ نہ گرم دستانے اور نہ ہی برف باری میں استعمال ہونے والے جوتے۔
ہمت مرداں مدد خدا کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مری، ایوبیہ اور نتھیا گلی کی سیر دو روز میں مکمل کی۔
ان علاقوں کی ناقابل بیان خوبصورتی میں میں قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے کا حسنِ سلوک بھی شامل تھا۔
تفصیلات تو اب یاد نہیں۔ سینتیس سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن میرے ذہن کے دھندلاتے پردے پر ایک واقعہ اب بھی منقش ہے۔ ہم کاغان پہنچے اور ایک سرائے میں ٹہرے۔ شام ہورہی تھی اور ہم سب تھکے ہوئے تھے۔ اگلے دن hiking کا ارادہ تھا۔ سوچا کہ ذرا آس پاس کی سیر کرلی جائے۔ سرائے سے تھوڑا آگے گئے تو خشک میواجات کے ٹھیلے نظر آئے۔ کافی گہما گہمی تھی۔ ہم بھی ایک ٹھیلے والے کے پاس پہنچ گئے اور دام معلوم کیئے۔
توقع کے خلاف ٹھیلے والے نے بڑے روکھے اور کسی حد تک ڈرادینے والے لہجے میں کہا:
“جاؤ یہاں سے!”
الٹے پاؤں ہم سرائے واپس آگئے۔ مجھے یاد نہیں کہ ہم رات کے کھانے کے لیئے کمرے سے باہر نکلے بھی یا نہیں۔ رات ہمارے کان ہر آہٹ پر چونک جاتے لیکن دروازے پر کوئ دستک نہ ہوئ۔
صبح ہوتے ہی ہم وہاں سے روانہ ہوگئے۔ سڑک سنسان تھی اور آسمان پر چمکتا سورج ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ کاغان کی وادی میں پھیلی ہوئ سر سبز پہاڑیوں اور بہتے چشموں کے صاف شفاف پانیوں کو دیکھ کر مجھے یہ شعر یا آگیا
اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمین است و ہمین است و ہمین است
اس دور میں bottled water کا تو نام بھی نہیں سنا تھا۔ بہتے پانی کو ہاتھ میں لیکر پیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے عمر بھر کی ہیاس بجھ گئ ہو۔ زندگی میں پہلی بار یخ بستہ پانی سے وضو کیا۔
جلتے سورج کی تمازت کم ہونے لگی اور hiking کرتے ہوئے قدموں نے آرام کی خواہش کا اظہار کیا تو ایک چھوٹے سے ہوٹل کا رخ کیا۔ ہوٹل کیا تھا بس ایک جھگیا تھی جس کا واحد آئٹم چکن کڑھائ اور گرما گرم تندور کی روٹی تھا۔
سب کی جیب اس وقت تک ہلکی ہوچکی تھی۔ ہم چاروں نے دو پلیٹ چکن کڑھائ طلب کی۔ پانی تو جھگیا کے برابر ہی بہ رہا تھا۔ اسی سے ہاتھ دھوئے اور مٹی کے پیالے میں پینے کے لیئے بھر لیا۔
مالک دکان خود روٹی اور تین پلیٹ چکن کڑھائ لیکر آگئے۔
ہم چاروں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
“چکن چھوٹی تھی اس لیئے میں تیسری پلیٹ بنا کر لے آیا۔ آپ ہمارے مہمان ہیں یہ تحفتاً ہے۔” اس نے نہایت شفقت آمیز لہجے میں کہا۔
ہمارے ماتھے پر لکھی پریشانی اس نے پڑھ لی تھی۔ اطمینان ہوا تو ہم نے سیر ہوکر کھایا۔
اس وقت مجھے اس چھوٹے سے واقعے کا صحیح طور پر ادراک نہ ہوا۔ سفر جاری رہا اور ہم پیشاور نکل گئے۔ وہاں پراٹھے اور بالائ کے ناشتے کے بعد کچھ سیر سپاٹا کیا اور افغانستان کی سرحد سے قریب باڑے جاکر ہلکی پھلکی خریداری بھی کی۔
واپسی کا سفر تھکن کے باعث کچھ خاموشی سے گزرا لیکن ہر سٹیشن پر گاڑی سے اترے۔ ملتانی حلوہ بھی لیا اور ہلکا پھلکا کھانا بھی کھایا۔ سٹیشن کی چائے کا بھی الگ ہی لطف ہے
برسوں گزرنے کے بعد اب سفید بالوں کے ساتھ کچھ عقل بھی آگئ ہے۔
پاکستان کے لوگ بڑے مہمان نواز اور ملنسار تھے۔ ایک ناپسندیدہ واقعہ ضرور پیش آیا۔ پتہ نہیں اس شخص کے ساتھ کیا پیش آئ ہو جس کی بنا پر اس نے ہم سے بدسلوکی کی۔ شاید اس کے ساتھ یا اس کے کسی رشتہ دار کے ساتھ کوئ ناخوشگوار سانحہ ہوچکا ہو۔
کاغان کی ایک چھوٹی سی ہوٹل کے مالک کے سلوک کو میں اب سمجھ پایا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں کہ جب وہ اضافی پلیٹ لیکر آیا تو مجھے یہ خیال آیا کہ وہ ہم سے زیادہ پیسے بٹورنا چاہتا ہو۔
کسی کی نیت پر شک کرنا ایک گناہ ہے۔ کسی کے طرز عمل کو اپنے حوالے سے اور محدود تجربے کی روشنی میں پرکھنا درست نہیں ہوتا۔
وہ شخص پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن جہان دیدہ اور ایک حساس اور شفقت بھرے دل کا مالک تھا۔ ہمیں ایک نظر دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ ہماری اوقات زیادہ نہیں تھی۔ اس کی ہمدردی کا صلہ اس کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے لیئے دل کی گہرائیوں سے پرخلوص دعا کی جائے اور اس کے انسانی سلوک کو اختیار کیا جائے۔ وہ شخص ایک مثالی انسان تھا اور میرے نزدیک ایک مثالی پاکستانی
پاکستان زندہ باد

میری غزل

سلیم ابوبکر کھانانی

میرے شعر
اس شہر فسردہ میں ضیا کیوں نہیں آتی
گھٹنے کو ہے دم تازہ ہوا کیوں نہیں آتی
برسوں کی گھٹن نے مجھے پابند کیا ہے
چھو کر تیرے قدموں کو ہوا کیوں نہیں آتی
ویران ہوئے شہر جھلسنے لگے سائے
بارش تیری رحمت کی خدا کیوں نہیں آتی
ہے وعدہ تیرا مجھ سے ہی مانگو تو ملے گا
لب پر میرے بس ایک دعا کیوں نہیں آتی
اب سوچ رہا ہوں کہ بدل دوں میری سوچیں
جو سب کی ادا ہے وہ ادا کیوں نہیں آتی
کیوں قائد اعظم کے ہیں افکار پریشاں
اب شاعر مشرق کی صدا کیوں نہیں آتی
آغوش میں جس کی ہو پلے اس کو ہی بیچا
اے سودا گرو تم کو حیا کیوں نہیں آتی

ڈاکٹر ڈھول باجے والا قسط دہم

ڈاکٹر ڈھول باجے والا
از ڈاکٹر سلیم ابوبکر کھانانی

قسط دہم
عقیل کی آنکھ نجانے کب لگ گئ اور اتنی گہری نیند سوئے کہ یا تو کسی خواب کو آنے کی اجازت نہ ملی یا پھر جاگنے پر کچھ یاد ہی نہ تھا۔ بھوک اور پہلی محبت کبھی نہیں بھولتے اور نہ چین سے سونے دیتے ہیں۔ عقیل کی گہری نیند کا سلسلہ بھی بھوک نے ختم کردیا جب کہ ابھی آسمان پر سفیدی کے ہلکے سے دھاگے کا شائبہ تک نہ تھا ۔ اگر بھوک کا مقابلہ کوئ کرسکتا تھا تو وہ کڑاکے دار سردی تھی۔ اگر بھوک اٹھنے پر مجبور کر رہی تھی تو سردی نے جسم سے ہلنے جلنے کی استطاعت منجمد کر رکھی تھی۔ یہ کشمکش اس وقت انجام کو پہنچی جب بھوک کے ساتھ پیاس سردی کے مقابل آگئ۔
چار و نا چار عقیل اٹھ کھڑے ہوئے۔ جہاں سوئے تھے وہاں سے دروازہ چند قدم کے فاصلے پر تھا لیکن اس تک پہنچنے میں محاورتاً صدیاں بیت گئیں۔ ہاتھ میں خالی بوتل سنبھالے عقیل نے غسل خانے کا رخ کیا۔ اس کی ایک جانب پانی کا صدیوں پرانا گھڑا تھا جس کے اندر موجود آبِ حیات کی طلب میں اگر ننگے پاؤں کانٹوں پر بھی چلنا انہیں منظور تھا۔ حقیقت میں ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ گھڑے میں اتنا کم پانی ہو کہ پیاسا داستانی کوے کی طرح کنکر جمع کرکے لائے تاکہ پانی کی سطح بلند ہو اور وہ سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دسترس میں آسکے۔ پانی بھر کر عقیل پوری بوتل کھڑے کھڑے ایک ہی سانس میں پی گئے۔
“پانی بیٹھ کر تین سانس لیکر پینا چاہیئے۔”
عقیل کا تو دم نکلتے نکلتے رہ گیا۔ نظر دوڑائ تو کوئ دکھائ نہ دیا۔
“ میں یہاں ہوں۔”
عقیل نے کچھ آسیب زدہ گھروں والی فلمیں دیکھی ہوئ تھیں۔ یقین ہوگیا کہ یہ زنانہ آواز کسی بد روح کی ہے۔ تھر تھر کانپنے ہی والے تھے کہ ایک پردہ ہلنے کی خفیف سے آواز آئ۔ قریب تھا کہ غسل خانے کے باہر وہ عمل وقوع پزیر ہوتا جو عموماً اندر ہوتا ہے کہ مخاطب نے کہا
“ڈریئے مت میں صغریٰ ہوں،”
نقاب اوڑھے ایک صنوبر کا درخت لچکتا ہوا ان کی طرف بڑھا۔
“میں تہجد پڑھ رہی تھی کہ آپ کے قدموں کی آواز سنائ دی۔ کچھ چاہیئے آپ کو؟ امی نے بتایا تھا کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں۔”
“ جی بس پیاس لگی تھی۔ “ عقیل سے کچھ اور نہ کہا گیا۔ لیکن کچھ بھی نہ کہا اور کہ بھی گئے۔
“ تکلف نہ کیجیئے۔ آپ رات جلد ہی سوگئے تھے۔ امی آپ کے لیئے کھانا لائیں تھی۔ آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ہاتھ منہ دھولیں۔ میں کچھ لاتی ہوں پھر آپ ابا کے ساتھ فجر کے لیئے مسجد تو جائیں گے ناں۔”
“ جی بہت بہت شکریہ۔”
یہ منظر ہوائ جہاز والے سین سے بالکل مختلف ہے۔ زندگی میں کبھی غم ہی تو کبھی خوشی۔ کبھی پستی تو کبھی بلندی۔ عقیل کی ابھی عمر ہی کیا تھی۔ ماں باپ کے گھنے سائے نے زمانے کی دھوپ سے اپنی اکلوتی اولاد کو بچا بچا کر رکھا تھا۔ جب پرندے کا بچہ گھونسلے سے نکل کر ہوا میں اڑتا ہے تو اسے بھی عافیت اور مصیبت کا فرق سمجھ آنے لگتا ہے۔
عقیل کو ایک پراٹھا اور چائے کا کپ پانچ تارے والی ہوٹلوں میں پانچ ہزار روپے والے ناشتے سے بڑھ کر لگا۔ کھاتے وقت تو مکمل توجہ کھانے پر ہی تھی لیکن جب بعد میں زور سے ڈکار لی تو گھر والوں کی ہڑبڑا کر آنکھ کھل گئ۔
نقاب پوش صغریٰ کی کھنکھناتی ہنسی سن کر عقیل کی جان میں جان آئ کہ چلو کوئ تو ہے جو ہاتھ پکڑ کر سڑک پر بےآس بے سہارا نہیں چھوڑدے گا۔
اکرام الدین کے قدموں کی چاپ صغریٰ کے لیئے پیامِ رخصت تھی، نقاب کتنا ہی دبیز کیوں نہ ہو حسن اور لبوں کی مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپتے۔ بادلوں میں چھپے چاند کی ایک جھلک ہی عقیل کو اپنا گرویدہ بنا گئ۔
اسے یاد نہیں کہ اکرام الدین نے اس سے کیا کہا اور وہ کب سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے مسجد پہنچ گیا۔ قیام، رکوع، سجدہ سب حسنِ یار کی اَن دیکھی زیارت میں تمام ہوئے۔
“چلو میاں۔ کن خیالوں میں گم ہو؟”
عقیل نے خمار بھری نظروں سے اکرام الدین کو دیکھا۔
“اماں یاد آرہی ہیں۔”
“اچھا اچھا۔” اکرام الدین ہنس پڑے۔
“چلو گھر چلو۔ تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔”